اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔27 فروری ۔2026 )
سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے درخواست واپس کردی ہے سابق وزیراعظم کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور نعیم پنجوتھہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست مقرر کرنے کی استدعا کی. چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ آپ کی درخواست اعتراضات کے ساتھ کل واپس کی جا چکی ہے آپ کی درخواستیں تاحکم ثانی زیر التوا رہیں گی چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ کی ایسی کوئی درخواست زیر التوا نہیں جس پر کارروائی کی جا سکے.
(جاری ہے)
اس پر
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے کل جلد سماعت کی درخواست دی تھی اور عدالت نے عمران خان کے علاج کا حکم دیا تھا چیف جسٹس پاکستان نے جواب دیا کہ عدالت نے حکم جاری نہیں کیا تھا بلکہ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی، آپ عدالت کا فیصلہ دوبارہ پڑھ لیں، صحت کا ایشو زیر التوا نہیں ہے. لطیف کھوسہ نے موقف اپنایا کہ سیاسی یا قانونی نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر ہسپتال منتقلی کی استدعا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر ہی میڈیکل چیک اپ کروایا گیا تھا دوران سماعت لطیف کھوسہ نے کہا کہ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں، جس پر جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ آپ کو 1992 سے جانتا ہوں، آپ کیا بول رہے ہیں اور کس چینل سے بول رہے ہیں سب سمجھ رہا ہوں.
چیف جسٹس
پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ کھوسہ صاحب آپ سینئر وکیل ہیں، سپریم کورٹ کا طریقہ کار جانتے ہوں گے، رجسٹرار سے ملاقات کریں اگر وہ اعتراضات کی کاپی نہ دیں تو عدالت آ سکتے ہیں اس موقع پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ کل آرڈر ہوا ہے تو ہمیں ابھی تک کسی نے آگاہ کیوں نہیں کیا.
Comments
No comments yet
Be the first to share your thoughts