راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 فروری2026ء) ڈی جی
آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک، جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ فتنہ الخوارج کے ساتھ لڑتے ہوئے ہمارے 12 جوان شہید ہوئے ہیں۔ پاک افغان صورتحال پر اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان طالبان رجیم نے اسے بنیاد بناکل کر سوکالڈ ایکشن کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ
طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا، تمام53 مقامات پر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فضائی کارروائیوں میں افغانستان کے مختلف علاقوں کوٹارگٹ کیاگیا، اہداف میں کسی بھی سویلین کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
کہا جارہا ہے
افغانستان میں سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایاگیا، افغان میڈیا اور سوشل میڈیا کا جھوٹ کل سے سن رہے ہیں، دہشتگردوں کی پوسٹوں اور گن پوزیشنز کو نشانہ بنایاگیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغان طالبان اور دہشتگردوں نے مل کرپاکستان پرحملہ کیا، کلمہ طیبہ کی وجہ سے افغان پرچم احترام سے اتارا گیا۔
Comments
No comments yet
Be the first to share your thoughts