راولپنڈی : ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاک فوج نے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فیصلہ کن ضرب لگاتے ہوئے ‘آپریشن غضب للحق’ مکمل کر لیا ہے۔ اس کارروائی میں دشمن کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کا نیٹ ورک مفلوج کر دیا گیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاکستانی سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر سرحد پار 13 سیکٹرز میں مجموعی طور پر 53 مقامات کو نشانہ بنایا۔اس آپریشن میں 274 خوارج ہلاک جبکہ 400 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ افغان طالبان کی 73 پوسٹس مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جبکہ 18 اہم چیک پوسٹس اب پاک فوج کے قبضے میں ہیں۔

کارروائی کے دوران پکتیا، کابل، ننگرہار، پکتیکا اور قندھار میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ کارروائی ان عناصر کے لیے پیغام ہے جو پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے ہمیشہ اپنی سرحدوں کا دفاع کیا ہے۔ پہلے ہندوستان کا شوق پورا کیا تھا، اب افغانستان کا شوق بھی پورا کر دیا ہے۔ اب جنگ دہشت گردوں کے گھروں تک جائے گی۔

ترجمانِ پاک فوج نے افغان عبوری حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان دوحہ معاہدے کی پاسداری کریں اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اسی دوران ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون حملوں کی کوششوں کو بھی ناکام بنا دیا گیا ہے۔ اس عظیم معرکے میں پاک فوج کے 12 بہادر سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ آپریشن کے دوران کسی بھی سویلین شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پوری قوم اور افواجِ پاکستان ایک جان ہیں اور ملک کی مغربی و مشرقی سرحدوں پر ہائی الرٹ رہتے ہوئے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔